بوڑھیں وے طبیبا مینڈھی خبر گئِیا تیرے عِشق نچایا کر تھیّا تھیّا عِشق ڈیرا میرے اندر کِیتا بھر کے زہر پیالہ مَیں پِیتا؟ جھَبدے آنوِیں وے طبیبا نہیں تے مَیں مر گِئیا تیرے عِشق نچایا کر تھیّا تھیّا
ایتھے لکھے گئے کئی مضمون پنجابی وکیپیڈیا تے اردو ویب محفل جیهی ویب سائیٹ اتے کاپی
کر کے آپنیا ناواں نال لائے هوئے هن ۔ بهت هی افسوس دا مقام هے۔ یاد رهووے ایهه کتاب دی شکل وچ چھپ وی چکے هے۔
مہر کی کوئی مقدار قرآن نے مقرر نہیں کی، جو کچھ باہمی رضامندی سے استطاعت کے مطابق طے پا جائے، وہ مہر ہے، اسے ادا کرنا ضروری ہے۔ یہ نکاح کے بعد بھی مقرر ہو سکتا ہے۔