Punjabi and Punjab  ਪੰਜਾਬੀ ਤੇ ਪੰਜਾਬ



Multani Dialect of Punjabi Language

پنجابی زبان کی مُلتانی بولی

کُچھ عرصہ ہوا مُلتانی کو پنجابی سے ایک علیٰحدہ زبان تسلیم، کرنےوالوں نے  ملتانی کی قدامت اور براہ راست سنسکرت کا خلف ثابت کرنے کے لئے کچھ مضامین لکھے تھے۔ جِن میں ملتانی کے اکثر الفاظ کا سنسکرت ماخذ دکھاکر عام پنجابی کا سنسکرت سے بُعد دکھایا تھا اور اس طرح اعتراض کیا تھا کہ پنجابی ( اور اردو) کے کئی الفاظ کا ماخذ سنسکرت میں نہیں ملتا اور بعض الفاظ جو سنسکرت کے قریب ہیں وہ بعینہ ملتانی کی نقل پر لے لئے گئے ہیں ۔ اِس کےبعد ایک آدھ مضمون اِس نظریہ کے بر خلاف ضرور نظر سے گزرا مگر پنجابی ( یا اردو) کے چند الفاظ کی تشریح ابھی تک نظر سے نہیں گزری جِن پر اعتراض کیا گیا تھا کہ سنسکرت ماخذ سے اُن کی تبدیل شدہ شکلیں کس طرح رونما ہو گئیں ۔ ایسے الفاظ کا حال یہاں پر دیا جاتا ہے تاکہ کوئی صاحب مزید روشنی ڈال سکیں تو معاملہ زیادہ واضح ہو سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی لفظ کے ماخذ تک پہنچنے کے لئے علم صوتیات کا کافی گہرا مطالعہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ایک زبان سے دوسری زبان میں جب الفاظ لئے جاتے ہیں ۔ تو اس دوسری زبان کی سان پر چڑھنے کے لئے تلفظ میں کئی ایک تبدیلیاں ہو جانا نا گزیر ہوتی ہیں ۔ تلفظ کی یہ توڑ مروڑ عموماً باقاعدہ اصولوں کے تحت آ جاتی ہے اور محض اصواتی مشابہت سے ہی یہ فیصلہ قطعی نہیں ہو سکتا کہ ایسے مشابہتی الفاظ کا آپس میں بھی کوئی یقینی رشتہ ہے یا کہ نہیں ۔ اگر محض اصواتی مشابہت ہی معیار ہو تو کسی ایک زبان کا حق کسی دوسری زبان پر جتایا جا سکتا ہے ۔مثلا ً عربی ام الالسنہ ماننے والے تو چینی زبان کے بیشمار الفاظ کو بھی  محض اصواتی مشابہت دکھا کر عربی سے اخذ شدہ ثابت کر دیتے ہیں، حالانکہ دیکھنا یہ ہوتا ہے ایک زبان کا لفظ دوسری زبان کی سان پر باقاعدہ اصولوں کے تحت رواج  پایا ہو۔ یہاں پر پنجابی کی سان پر الفاظ چڑھنے کے وہ تمام تسلیم شدہ اصول تو نہیں گنائے جا سکتے، مگر چند ایک موٹے موٹے اصول جو زیر نظر الفاظ کے لئے درکار ہیں ، ان کا ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

اصول    ؀1 اگر لفظ کے اندر سِسکاری ( یعنی صغیرہ اور تفشی) حرف اور انسدادی حرف مل کر آئیں تو سسکاری حرف اڑ کر انسدادی حرف مخلوط الہا ہو کر مشدد ہو جاتاہے مثلا ً  آشٹَو۔ آٹھ۔ نَشٹ ۔ نٹھّنا۔ مُشٹِ۔ مُٹھّ۔ مشِٹ۔ مِٹھّا۔ ارِشٹ۔ رِیٹھا۔  پِشٹَ۔ پَیٹھی۔ 

اصول    2 ؀ لفظ کے اندر اگر انسدادی حرف  "ک" سسکاری حرف "ش" کے ساتھ مل کر آئے تو اصول نمبر ایل کی طرح حرف "ش" اڑ جاتا ہے اور کاف کی آواز کبھی مشدد ہو کر مخلوط الہا ہو جاتی ہے مثلا ً   کشار۔ کھار۔ کشِیر۔ کھِیر ۔ ککشَ۔ ککھّ۔ مکشِکا۔ مکھّی۔ پکشَ۔ پکھّ۔ سِکشا۔ سِکھّ۔

اصول    3 ؀  اگر سسکاری حرف "ی" کے ساتھ مل کر لفظ کے اندر آئے تو حرف "ی" اڑ جاتا ہے اور  سسکاری حرف ہر حالت میں "س" ہو کر مشدّد ہو جاتا ہے مثلا ً  رُشیَتِ۔ رُسّنا۔ نَشیَتِ ۔ نسّنا۔ درِشیَتِ ۔ دِسّنا ۔

اصول    4 ؀ وسطی دور میں لفظ کے اندر کھ۔ گھ ۔ تھ۔ دھ۔ پھ۔ بھ میں سے کوئی ہو تو وہ بدل کر صرف "کا" ہی بن جاتا تھا مثلا ً   

اصول   5؀  لفظ کے اندر غنہ حرف کے نعد مجہورہ انسدادی حرف سے پہلے غنہ حرف ہو  تو مہموسہ کو مجہورہ بنا دیا جاتا ہے مثلا ً  تَنتُ ۔ تَند۔ دَنتَ۔ دند

اصول   ؀6  لفظ کے اندر غنہ حرف کے بعد مجہورہ انسدادی حرف آئے تو بعض بولیوں میں ایسا انسدادی حرف عموما ً  غنہ کے ساتھ مدغم ہو جاتا ہے مثلا ً   پِیجنا سے پِننّا۔

اصول ؀7اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خیشوی اعراب جو کہ غنہ صامت کی جگہ بنی تھی بغیر نبرہ والی جگہ پر آکر بالکل ہی اڑ جاتی ہے مثلا ً  کَرمْدَ ( حرف ر   پر نبرہ) سے کرَنْدا ( حرف ک پر نبرہ) بنا تو خیشوی اعراب بغیر بنرہ کے ہو جانے سے اُڑ گئی اور "کردا" بن گیا۔

ان اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختلف الفاظ پر جو   عتراضات کئے جاتے ہیں ان کا جائزہ لیا جاتا ہے پہلا اعتراض اردو ( پنجابی) کے الفاظ آنکھ (اکّھ) اور ہاتھ (ہتھ) پر کیا جاتا ہے کہ یہ کہ یہ اصل میں ملتانی نے علی الترتیب سنسکرت کے الفاظ اُکشِ اور ہستَ سے اخذ کئے ہیں اور اردو ( پنجابی) والوں نے براہِ راست سنسکرت سے نہیں لئے بلکہ محض ملتانی کی تقلید پر اپنے ہاں ان کا رواج دے لیا ہے ملتانی  میں ان الفاظ کی بناوٹ کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ چونکہ ملتانی لوگ حرف س  اور  ش  کا تلفظ ٹھیک ادا نہیں کر سکتے اس لئے ملتانیوں نے سنسکرت ماخذ سے حروف س  اور ش  حذف کر دئیے حالانکہ ملتانی کو علیحدہ زبان ماننے والے تو یہاں تک مانتے ہیں کہ پنجابی میں  ( خاص کر ملتانی میں )  اور اردو دونوں میں حروف س  اور ش  کے مخارج ایک  جیسے ہی ہیں سوائے اس کے کہ پنجابی میں حرف ش کو ذرا تتلا کر بلایا جاتا ہے اصل بات یہ کہ اصول نمبر دو کے تحت اکشِ سے اَکھ بنا اور اصول نمبر ایک کے تحت ہَستَ سے ہتھّ بنا۔ یہ تو اردو زبان کی خاصیت سے اعراب میں لمبائی آکر حروف آنکھ اور ہاتھ بن گئے۔

دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے لہ ملتانی میں وات ( بمعنی وہان ) اور سبھاہیں  ایسے الفاظ سنسکرت کے ماخذوں  " وکتر َن اور شوَس سے لیکر استعمال ہوتے ہیں مگر اردو ( پنجابی) میں ایسے قیمتی الفاظ سرے سے ملتے ہی نہیں ، اعتراض کرنے والوں کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ اردو ( پنجابی) میں ایک اور لفظ " باچھ" دہان کے معنوں میں سنسکرت کے لفظ وَش سے اخذ کر کے باقاعدہ مستعمل ہے جہاں تک لفظ سبھاہیں کا تعلق ہے اس کو سنسکرت کے لفظ شوَس سے منسلک کرنا غلط ہے ، کیونکہ مہارازڑی اور سوراسینی پراکرتوں میں شوَس سے شوَہ اور پھر سَوربھَکتی سے "سُود" تو ضرور اس معنوں میں بنا ، مگر ملتان والوں نے عربی لفظ صبح کو بگاڑ کر صباحیں بنایا ہے اس کے ہجّے سبھاہیں غلط ہیں۔ واقعی یہ لفظ اردو میں نہیں ملتا۔ اور اس میں ملتانی فخر کر سکتی ہے بعینہ جس طرح پنجابی کے لفظ سُجاکھایاچَوکا (بمعنی چار کا ہندسہ) وغیرہ کا بدل انگریزی میں بھی نہیں ملتا۔ مگر یوں فخر کرنے میں ملتانی کو علیحدہ زبان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ملتانی میں الفاظ رُسّنا اور بہنا تو باقاعدہ سنسکرت کے ماخذوں رُش اور وِش  سے بنا لئے گئے ہیں مگر اردو پنجابی میں انہی معنوں میں الفاظ روٹھنا(رُٹھنا) اور بیٹھنا ( ویٹھ) کا کوئی سراغ سنسکرت سے نہیں ملتا۔ اصلیت یہ کہ ماخذ رُشیَتِ سے اصول نمبر تین کے تحت رُسّنا بنا اور اردو پنجابی نے ماخذ رُشٹَ سے اصول نمبر ایک کے تحت روٹھنا ( رٹَّھنا) بنا لیا اسی طرح ماخذ ویکش یَتِ سے پہلے اصول نمبر دو کے تحت ویکھ یَتِ بنا اور پھر اصول نمبر چار کے تحت وَیہنا (بہنا) بن گیا اردو (پنجابی) نے ماخذ ویشٹَ سے اصول نمبر ایک کے تحت بیٹھنا ( ویٹھ) بنا لیا۔

ان کا چوتھا سوال خود اپنے اوپر ہے یعنی اردو میں سنسکرت گردان کر طرح حرف ت کی نشانی تو قائم رہتی ہے ( مثلا ً کرتا) مگر پنجابی میں اس کو حرف دال سے کیسے بدل دیا گیا ہے ( مثلا ً کردا) اس میں کوئی شک نہیں کہ ملتانی ( لہندا) پنجابی اور اردو نے فعل حال کی شکل سنسکرت کے ایک ہی ماخذ سے اخذ کی ہیں ، مگر مختلف اصولوں کے تحت ان کی حالتیں مختلف ہو گئی ہیں ۔ مثلا ً سنسکرت لفظ ( کَ رَ تِ ) جسمیں حرف ِ کاف پر نبرہ ہے، پراکرتوں میں آکر غنّہ کی زیادتی سے دو طرح پر مستعمل ہوا، اِن دونوں حالتوں میں نبرہ بدل کر حرف رے پر آگیا ۔ یہ دو حالتیں "کَ عَ مْ تَ" اور " کَ ریم تَ "تھیں۔ ملتانی ( لہندا) نے اس دوسری حالت سے اصول نمبر 5 کے تحت لفظ "کریندا" بنا لیا۔ یہیں سے مغربی  پنجابی کی بولیوں  میں اصول نمبر دو کے تحت لفظ "کریننا" بنا ۔ باقی پنجابی میں پہلی حالت  پنجابی پراکت میں تبدیل ہو کر ( کَ رَمْ) استعمال ہوا۔ اِس کے بعد پرانی پنجابی میں نبرہ واپس حرف کاف پر آکر ( کَ رَ ندا) اور ( ک رَ ن نَ) بنا، جہاں سے اصول نمبر 7 کے تحت علی الترتیب پنجابی لا لفظ " کردا" اور پوٹھواری بولی کا لفظ "کرنا" رائج ہوا۔ اردو نے البتہ نہ حرف ت کو دال میں تبدیل کیا اور نہ  غنّہ آواز کو شامل رکھا بلکہ "کرتا" لفظ استعمال کیا۔

پانچواں اعتراض اس بنا پر کیا جاتا ہے کہ ملتانی میں سنسکرت کی طرز پر فعل  کی ضیمری گردان بھی کی جاتی ہے۔ مگر اردو  (پنجابی) نے اتنا بعُد اختیار کرلیا ہے کہ اسمیں بغیر اسم ضمیر لگانے کے فعل بذات ِخود ضمیر نہیں بتا سکتا۔ اِس کی مثال یُوں دی جاتی ہے کہ ملتانی میں فعل "کرنا" کی زمانہ حال کی گردان سنسکرت کے الفاظ "کروتی" وغیرہ سے کریندَئےَ" وغیرہ بنا کر ہوتی ہے ( کریندَئےَ ۔ کریندِنِ۔ کریندَ ئَیں ۔ کیندِیو۔ کیندَآن۔ کریندِآنہہ) اسی طرح مستقبل میں "کرشیامی" وغیرہ سے "کرلسیاں " وغیرہ بنائے گئے ہیں ( کرلسیی۔ کرلسین۔ کرلسییں ۔ کرلسیو۔ کرلسیاں۔ کرلسیانہہ) اسکے برعکس اردو ( پنجابی) میں افعال کی گردان میں صرف واحد جمع یا مذکر مونث کا ہی لحاظ رکھا جاتا ہے اور ضمیر کی پہچان بغیر اسم ضمیر لگانے کے ممکن نہیں۔ مثلا ً کرتا(کردا) کرتے (کردے) ۔ کرتی  (کردی)وغیرہ ے مستقبل میں گا۔ گے۔ گی کی حالتیں ۔حقیقت یہ ہے کہ ملتانی میں افعال کے ساتھ ضمیریں چسپاں کرنے کا رواج تو کہیں کہیں ہے مثلا ً   مَینُو لگدا اَے کی بجائے   "لگدم" بولا جاتا ہے، مگر یہ کہنا کہ مندرجہ بالا ملتانی فعل کی مثالوں میں ضمیر شامل ہوتی ہے غلط ہے۔ اصل بات یہ ہےکہ اردو ، پنجابی یا ملتانی میں ابھی افعال کی غیر تصریفی حالتیں مکمل نہیں ہیں جن میں فعل کی ایک ہی شکل تمام ضمیروں کے لئے یکساں ہو، مثلا ً ماضی کی مثال "میں نے دیکھا " یا " میں دیکھیا" "میں ڈِٹھّا" وغیرہ ورنہ عموماً معاون فعل کی ضمیری گردان شامل ہوتی ہے جیسا کہ مندرجہ بالا فعل مستقبل کی مثال میں تو نمایاں طور پر ظاہر  ہے کہ فعل کی شکل "کرے" ہر جگہ موجود ہے مگر "ساں" کی ضمیری گردان کی گئی ہے۔ اسی طرح مندرجہ بالا فعل حال کی مثال میں اگر مخفف حالتوں کو یوں کھول کر لکھا جائے ( کریندا اَے۔ کریندے اِن۔ کریندااَیں ۔ کریندے او۔ کرینداآں ۔ کریندے آنہہ) تو یہاں سے معاون فعل کی گردان نمایاں ہو جاتی ہے بعینہ اسی طرح باقی پنجابی یا اردو میں "ہے" وغیرہ کی ضمیری گردان مستعمل ہے ۔ اسمیں ملتانی کو کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہیں۔

چھٹا اور آخری اعتراض افعال کی ان ساختوں میں یہ ہے کہ الفاظ  گا۔ گے۔ گی  وغیرہ کون سے ماخذوں سے لئے گئے ہیں ۔ جہاں تک مستقبل کی نشانی "گا" کا تعلق ہے یہ بالکل نئی گھڑت ہے،اس کا رواج تو پراکرتوں اور پرانی ہندی زبانوں میں بھی نہیں ملتا مثلاً ہندی زبان  برج ( جسے مسلمان صرف بھاشا بھی کہا کرتے تھے) کی پُرانی اصل شکل ضلع متھرا کی زبان تھی، اس میں مستقبل کے زمانہ کو مضارع کے ساتھ ہی دکھایا کرتے تھے، جیسے "وُہ ہو گا" کو " اَے ہوئے ہےَ" بولا جاتا تھا۔ یہ تو اردو نے اپنا جنم پنجاب میں لیتے ہوئے پنجابیوں سے "گا " کی نشانی لے کر استعمال کی اور پھر برج نے اسکی نقل پر "گوَ" یا   "گےَ "  بنا کر   "وَے ہو وَے گوَ" بولنا شروع کیا یہ نشانی "گا"  اصل میں سنسکرت کے مصدر "گم" (بمعنی جانا) کی مجہول ماضی مطلق شکل  "گتھ"  اور پراکرت "گئو" سے بنی ہے۔ اس کی مؤنث شکل "گائی" بنی جس سے "گی " بن گیا۔ حال کی نشانی "ہے  " اور ماضی کی نشانی  "تھا" کا کوئی واسطہ مصدر "ہونا" کے ساتھ نہیں ہے۔ کیونکہ "ہونا" تو سنسکرت کے فعل "بھؤ "سے نکلا ہے جیسا کہ برج میں  "وہ ہواتھا " کو " وَے بھَیَو ہو" کہتے ہیں مگر   "ہے" کا مادہ "اَس" اور "تھا  " کا مادہ "ستھا" ہے  (باوجود اس بات کے ہم آجکل "ہے" وغیرہ  کو "ہونا" کے ہی صیغے سمجھ کر گردان کرتے ہیں ، پنجابی میں  "تھا"کی  جگہ "سی" وغیرہ کی ضمیری گردان استعمال میں آتی ہے جو کہ "اَسِیت" وغیرہ کی ضمیری گردان سے نکلا ہے  لہذا  ) میں یہی ماخذ  "اَہا" یا "ہا" وغیرہ بن گیا ، اسی طرح فعل حال کی نشانی "سن "وغیرہ کی ضمیری گردان لفظ "سنتی" وغیرہ کی ضمیری گردان سے نکلی ہے۔ ان ضمیری گردانوں کو روکنے کی خاطر کئی ڈھنگ استعمال ہو رہے ہیں مثلا ً لاہوری بولی میں فعل حال کے لئے لفظ "نے" (جمع نہیں) پنجابی میں بولتے ہیں ( اُہ کھاندا نے ) جالندھر کی طرف جاؤ تو کچھ قنوجی بولی کی طرح فعل حال میں "ہَیگا" پنجابی میں بولتے  ہیں (اُہ کھانداہَیگا) اسی طرح پنجابی میں ماضی کے لئے لفظ "سی" بغیر کسی گردان کے ہر ضمیر کے ساتھ بولتے ہیں ( اُہ کھاندا سی) بلکہ ماضی کے لئے عام رواج لفظ "ہیگا" کا ہے ( اُہ کھاندا ہیگا) یہاں تک کہ لفظ "ہیگا" معاون فعل کے علاوہ اصلی فعل"ہے" کی طرح بھی بولا جاتا ہے، جیسے کہ جالندھر دوآبی میں " وُہ موجود تھا کو  "اُہ ہیگا سِیگا" کہتے ہیں اس حالت میں فعل حال معروف کی گردان یوں کرتے ہیں ( ہیگا اے، ہیگے ہن ، ہیگا ایں۔ ہیگے او، ہیگا آں ، ہیگے آنہہ) واحد غائب میں "ہیگا" کی جگہ "ہے"(اے) اور "سیگا" کی جگہ "سی " کی نشانیاں پھر بھی عام استعمال میں آتی ہیں ، کیونکہ "ہے" اور "سی" کو بنیادی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے "ہیَگا سِیگا" کی جگہ "ہے سی" کا بھی عام رواج ہے۔ افسوس کہ اس فرضی اصل فعل"ہیگا" یا  ہے کا کوئی مصدر یا کوئی اور گردان پنجابی میں مستعمل نہیں ، ورنہ اردو کے "ہوتا ہو گا" یا پنجابی کے ہُندہؤ ُگا" کی طرز پر "ہَیگا ہوؤ ُگا" جیسی شکلیں بھی بن ہی جاتیں۔ اس میں کوئی شک نہیں اگر اصلی فعل ہر ضمیر کے ساتھ ایک ہی شکل رکھے اور اس کے بعد کا معاون فعک ضمیری گردان دکھائے تو بادی النظر میں یہ فعل کی تصریفی شکل نظر دخہائی دیگی جیسے کہ تمام کا تمام ایک ہی اصل فعل ہے ، اس نہج سے تصریفی رنگ سے لگاؤ رکھنے والے "اَسا " "جاسا" " ڈٹھا اے" وغیرہ طرزیں استعمال کرنا پسند کرتے ہیں اس کے برعکس اگر پنجابی میں تصریفی سے غیر تصریفی بن جانا ترقی شمار کی جائے تو ہمیں "اَساں جاساں " وغیرہ کو چھوڑ کر "آواں گا جاواں گا" ہی بولنا پڑیگا اور "سی " کی نشانی مستقبل کی بجائے ماضی کے لئے استعمال کرنی ہوگی۔

ضمنا“ یہاں اس بات کا ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک کسی زبان کی قدامت کا سوال ہے ، اسکو دیکھنے کیلئے یہ اصول نہیں ہے کہ ہم محض الفاظ کے ماخذوں کو کسی قدیم زبان سے نسبت دیکر خوش ہو جائیں کہ واقعی یہ قدیم زبان ہے ، ورنہ اس طرح تو تقریباً ہر مرکب زبان کو کسی نہ کسی قدیم زبان سے نسبت دے سکتے ہیں یہاں تک کہ ثبت کرنے والوں نے تو ہندکو کو بھی قدیم زبان ثابت کر دیا ہے ۔بلکہ اسکے لئے تو عقیدتمندی کا سوال بھی سامنے لا کھڑا کر دیا ہے کہ چونکہ پشاور کا علاقہ ہمارے آباؤاجداد کی تہذیب کا گہوارہ ہے اور ہندکونے بھی اسی علاقہ میں جنم لیا ہے ،اس لئے ہم اُسے اپنے آباؤاجداد  کی زبان سمجھ کر احترام کریں حالانکہ قدامت کے لئے ہیں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ زیر نظر زبان کی موجودہ حالت کب سے یوں بن گئی ہے کہ اسے علیحدہ بولی یا زبان کا لیبل دیا جا سکے وہی زمانہ اس کا جنم کہلائیگا البتہ جنم بھومی کا سوال ایک ٹیڑھا نفسیاتی مسئلہ ہے جسکی بنیاد پر ہی آجکل   جدیدہندی   جنم لے رہی ہے ہم اس تجربہ سے نصیحت لے سکتے ہیں۔

اردو صفحات    Urdu Pages

 Back to Previous Page


اُٹھ ، جاگ ، گھُراڑے مار نہیں ایہ سَون تیرے درکار نہیں
جو کُجھ کرسیں ، سو کُجھ پاسَیں
نہیں  تے   اوڑک   پِچھّوں   تاسَیں
سُنجی  کُونج   وانگُوں   کُر  لاسَیں
کھنباں     باہجھ     اُوڈار    نہیں
اُٹھ ، جاگ ، گھُراڑے مار نہیں ایہ سَون تیرے درکار نہیں


Comments

All Comments
No comments yet



All Comments

*Name:
Email:
Notify me about new comments on this page
Hide my email
*Text:
 
 
Powered by Scriptsmill Comments Script


شبد بھنڈار
Punjabi Poetry
Punjabi Lessons
ماہیا۔ٹپے  

"Punjabi Vocabulary"

Pages

ہر متنازعہ معاملہ کی خود تحقیق کر لیا کریں۔ سنی سنائی باتوں پر بھروسہ نہ کریں۔


  
Desi Calendar

For better view the web site requires the download of ; 'Roz Urdu Punjabi Nastaleeq Shahmukhi Font.

Recent Comments

Plz Rhodiola Rosea ka desi naam bata dain ....... Read more ----Malik

very informative. ....... Read more ----Hamid

میرا وہ تاں ہے ....... Read more ----Riaz

Bhai jee Attock city ton pehla punjabi risala WANGAN[ونگاں] december wich asha'at pzeer ho ria.Tusan ne tay hor dostan ne Nazm/Nasri nigarshat ne ....... Read more ----saqlain

http://usa-onlineprednisone.net/ - usa-onlineprednisone.net.ankor <a href="http://salbutamol-ventolin-buy.net/">salbutamol-ventolin-buy.net.anko ....... Read more ----yuruyukfobm

All Comments





Desi Calendar