Punjabi and Punjab  ਪੰਜਾਬੀ ਤੇ ਪੰਜਾਬ

Punjabi Language and National Integration

پنجابی کے لِسانی رابطے ، تاریخ و اِرتقا کے پس منظر میں

( یہ لیکچر  "نیشنل بُک کونسل آف پاکستان کی جولائی 1984 ء میں ہونے والی ورکشاپ کے لئے سردار محمد خاں نے لکھا تھا۔)

اُنِّیسوِیں صدی عیسوی کے دوران اور شروع صدی بِیسوِیں میں لِسانی مسائل میں سے سب سے زیادہ توجہ تبوِیب الالسنہ یعنی زبانوں کی شجرہ بَندی (language classification) پر دی جاتی رہی جس کے نتیجہ میں یہ طے پایا کہ دراوڑی اور آسٹرک کے علاوہ اِس برصغیر کی تمام زبانیں (Indo - European) ہِند آریائی خاندان کی زبانوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ خصوصا ً اِیرانی اور داردی زبانوں کے علاقہِ کو چھوڑ کر اِنڈک (Indic) شاخ کا بہت وسیع خطہ سندھ سے لے کر بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ شاید سیاست اِس کی متقاضی ہوتی ہے کہ لِسانی رشتوں کو کسی نہ کسی طرح استوار کیا جائے۔

بہر حال ہند یورپی زبانوں کا یہ رشتہ آجکل کئی اطراف سے دعوتِ مُبارزت دے رہا ہے، کیونکہ اِنڈک شاخ جو صرف ویدک بھاشا پر مُشتمل ہے، اُس کا تعلق سِندھ سے لے کر بنگال تک کی 528 دیسی زبانوں سے کسی بھی زبان سے نہیں ہے۔ یہ زبان جلدی ہی مُردہ ہو گئی ۔ یہ جو نِکھری ہوئی زبان سنسکرت بنائی گئی، اور جو عملاً عوام میں چل نہ سکی اور یُوں مُردہ ہو گئی، آخر اُس کی وجہ کیا تھی ؟  آریاؤں نے ویدک بھاشا کو تو متبرک سمجھ کر عوام میں اس کو رائج نہ کیا ، مگر اس برصغیر کے مذکورہ وسیع خطہ میں یہاں کے اصلی باشندے خود اپنا زبانوں کا ایک وسیع خاندان رکھتے تھے جو آجکل 18 بڑے  گرہوں میں بٹا ہوا ہے، اور اُن سب زبانوں کی نحو (Syntax)  کی ترتیب (order) کا حصہ کافی حد تک مِلتا جُلتا ہے۔ آریاؤں کی آمد کے بعد، سنسکرت ایک ایسی زبان گھڑی گئی جس میں تمام دیسی زبانوں کے تقریباَ ہم معنی الفاظ کو ویدک بھاشا کے کسی نہ کسی مادہ (root) کا رنگ دے کر سنسکرت میں شامل کر لیا گیا۔ اس کی ایک شاندار مثال R.L. Turner کی  Indo - Aryan Languages کی ڈکشنری ہے جس میں ایسے 14845 سنسکرت ماخذوں کے معنی دے کر اُن کے تحت دیسی زبانوں کے ہم معنی الفاظ کو معمولی سے اصواتیاتی فرق سے یُوں درج کیا گیا ہے جیسے کہ وہ تمام دیسی زبانوں کے الفاظ سنسکرت ماخذوں سے اخذ کئے گئےہیں۔ حالانکہ بات اِس کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ  ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ آریاؤں نے مختلف دیسی زبانیں بولنے والوں کو کہا ہو کہ ہمارے فلاں ماخذ سے یُوں یُوں اصواتیاتی فرق سے اپنے ہاں تقریباً ایک ہی معنوں میں لفظ رائج کر لو،  یا  تمام دیسی زبانیں بولنے والوں نے اتفاق کر لیا ہو کہ چونکہ ہمارے ہاں اِن معنوں میں کوئی لفظ نہیں ہے اس لئے ہم سب فلاں سنسکرت ماخذ سے قدرے اصواتیاتی فرق سے اپنے ہاں یہ لفظ رائج کر لیں گے۔ یقیناً یہ خود آریاؤں کی ضرورت تھی کہ کسی طرح یہاں کے باشندوں کے مُشترک   الفاظ کو سنسکرتائی شکل دے کر استعمال کیا جائے، کیونکہ دیسی زبانوں کے ایسے الفاظ جو ہندی میں مستعمل ہیں مگر سنسکرتائی ہوئی شکل اختیار کرنے سے رہ گئے ہیں، اُن کو دیوناگری رسم الخط میں لِکھّی ہوئی ہِندی کی کسی لُغت میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، جہاں اُنہیں تَت سم  یا  تَدبھو  نہیں بلکہ محض "دیسی" لفظ کا لیبل لگا دیا گیا ہے۔

یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ دیسی زبانیں الفاظ کے سلسلہ میں ویدک بھاشا سے متاثر نہیں ہُوئیں بلکہ سنسکرت نے خود کئی دراوڑی الفاظ کو اپنے اندر سمو لیا جن کی فہرست  T. Burrow نے اپنی کتاب The Sanskrit language کے   1973ء کے ایڈیشن میں دے دی ہے۔ غرضیکہ سنسکرت زبان ایک نِکھری ہوئی مگر بناوٹی زبان ہونے کی وجہ سے مُشکل بھی، رواج نہ پا سکی۔ یہ زبان مُردہ نہیں ہوئی بلکہ یُوں کہیئے کہ یہ رائج نہ ہو سکی۔ یہ زبان تو کبھی زندہ ہوئی ہی نہیں، کیونکہ زندہ وہی زبان کہلاتی ہے، جس کے بولنے والے ایسے موجود ہوں، جن کی سوچ کی زبان بھی وُہی ہو۔ اس سلسلہ میں یہ بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ ایک زبان اگر مُردہ ہو جائے یعنی اُس کے اہلِ زبان صفحٔہ ہَستی سے اوجھل ہو جائیں ( چہ جائیکہ وہ مذہبی رنگ میں مستعمل رہے یا لِسانی شکل میں پڑھائی جاتی رہے) تو دوبارہ اُس کو زندہ کرنا نا ممکن ہے۔ زبان کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) ہو نہیں سکتی۔ اگر اُس کو دوبارہ رائج کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو یقیناً وہ جدید زبان ہو گی، جو کہ قدیم زبان سے ایک علحٰدہ زبان ہو گی۔

انگریزی اصطلاحات کے ترجمہ کے سلسلہ میں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ جس طرح  Phonology کو صَوتیات اور Phonetics کو اصواتیات کہ کر فرق کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، اِسی طرح Philology کو ادبیات اور  Linguistics کو لسانیات ( علمِ زبان) کی اصطلاحوں سے فرق کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا "لِسانی" سے مراد محض زبان کا مسئلہ وغیرہ ہو گا، مگر  " لسانیاتی" سے علمِ زبان کی موشگافیاں وغیرہ سمجھا جائے گا ۔ Linguist  سے مراد ہفت زبان (Polyglot)  کے علاوہ ماہر لسانیات  یا  طالبعلمِ لسانیات ہی سمجھا جائے گا۔ اِس کا آخری فیصلہ البتہ قومی زبان پر ہے۔

لہٰذا اِس اِنڈک شاخ کو ہمیں ایک علحٰدہ پاک و ہند خاندان تصور کرنا ہو گا اور یُوں زبانوں کے بڑے بڑے خاندان تعداد میں 19 سے بڑھ کر بیس بن جائیں گے۔ اگر کسی کو اس استدلال پر متفق ہونے سے گریز ہو اور وہ پُرانی ڈگر پر ہی قائم رہنا چاہے ، تو کم از کم زیرِ نظر عنوان جس پر ہمیں آگے بات کرنی مقصود ہے، کے لئے کُچھ فرق نہیں پڑتا۔

اس پاک وہند خاندان کے 18 بڑے گروہوں میں سے ایک گروہ  "پنجابی " کہلاتا ہے، جس کی بولیوں ، ذَیلی بولیوں (sub dialects) ، فرعی بولیوں (form of dialects)  اور علاقائی بولیوں (local dialects) کی کُل تعداد 70 سے زیادہ بنتی ہے ۔ ( نقشہ  ، پنجابی کی بولیاں، بولیاں

آریاؤں کی آمد سے پہلے جو قومیں اس برصغیرمیں وارد ہوئیں ، اُن کی زبانوں سے متعلق چند ایک باتیں بیاں کر دینا دِلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔

1- تُورانی ( جو کہ آجکل اُورال آلٹیک خاندان کی زبانیں بولتے ہیں ) میں سے جو کہ کوہ قاف کے علاقہِ سے تعلق رکھتے تھے اور جن کا بعد میں نِیگرائِیٹو سے امتزاج ہوا جب اِس برصغیر میں آئے تو دراوڑ کی نسبت سے دراؤڑی کہلائے۔

2- یہی دراوڑ جب منگول اور سیتھی نسلوں سے مخلوط ہوئے تو منگولی دراوڑ ( مثلاً کول) اور سیتھی دراوڑ ( مثلا ً مرہٹا) کا ظہور ہوا۔

3- کول حقیقت میں آسٹرک خاندان کی زبان سے تعلق رکھتے ہیں ، اِن کے ورُود کے بعد اس برصغیر میں دراوڑی چھا گئے اور گُھل مِل کر اپنی تہذیب کو پھیلایا۔

4- جس طرح بِھیل ( جو کہ آسٹرک ہیں ) اپنی آسٹرک خاندان کی زبان کی بجائے آجکل آریائی زبان گجراتی کی بِھیل بولیاں بولتے ہیں ، اسی طرح براہوی، گونڈ اور اوراؤں حقیقت میں کول تھے، مگر بعد میں دراوڑی زبانیں بولنے لگ گئے۔

5- وادئ سِندھ کے لوگ :-  بارھویں صدی قبل مسیح میں ڈورسی  یلغار سے پہلے یُونانی سر زمین کے ہلیڈی تمدن (1100 سے 2500 ق م ) کے ہم عصر اس سے بھی پُرانا تمدن ( 1100 سے 3000 ق م ) بحیرۂ ایجین کے علاقہِ کا تھا ، اس ایجین تہذیب و تمدن کا علمبردار خاص کر جزیرہ کریٹ کا میعنی کلچر تھا جس کا پہلا دَعر 5000 سے 2100 ق م کا تھا، وسطی دَور 2100 سے 1600 ق م رہا ( جب کہ سائیکلیڈی وغیرہ متفرق کلچر بھی چل رہے تھے) ، اور تیسرا آخری دَور 1400 سے 1100 ق م تک جو کہ حقیقت میں مائِیسِینی (اخیانی) کلچر ہی کی شکل تھی۔

اِسی آخری دَور میں کریٹ والوں نے اپنی کِنونی ہِیروغلیغی کی لکیر دار شکل کی لکھوائی بنا لی تھی۔ وادئ سندھ کے تمدن میں اسی لکھائی کی جھلک پائی جاتی ہے، مگر ابھی تک کریٹ اور سِندھ دونوں خط پُوری طرح پڑھے نہیں جاسکے۔ کریٹ کی اس لکھائی کی تقریباً  70 شکلیں بعینہ وُہی ہیں جو کہ مِصری لکھائی میں ( 2500 ق م  سے شروع ہو کر ) پائی جاتی ہیں ۔ یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معینی اور مصری ہِیروغلیغی دونوں اپنی علامات اور شکلوں میں ایک ہی منبع رکھتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ وادئ سندھ کے لوگ اس برصغیر میں نقل وطن کرنے سے قبل مصر  یا  کریٹ سے تحریر کا طریقہ سِیکھ کر آئے ہوں۔

مُمکنات میں سے ایک دُوسرا غالب پہلو یہ ہے کہ 4000 ق م میں سومر اور اکاد  پر دیگر تہذیبوں کی گرفت آنے سے قبل، قدیم کلدانی جو کہ بابل پر برسراقتدار تھے ، مصر سے آتے ہوئے وہاں کا خط تمثال ( تصویری خط) کو 4300 ق م میں اپنے ساتھ لے آئے ہوں۔ اور پھر کلدانیوں سے وادئ سندھ والوں نے اپنے نقل وطن کے سفر کے دوران یہ خط اپنے ساتھ لے آئے ہوں، جبکہ پُرانا رائج شدہ لکیردار خط سومَر والوں نے ابھی میخی خط کی شکل میں نہ ڈھالا ہو۔ بایں وجوہ ہمیں یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ قدیم سِندھی خط ، سومَر خط سے مشابہ ضرور ہے مگر اُن کے حروف کی اصواتی قِیمتیں سومَر والوں سے مختلف ہیں۔

وادئ سندھ کی قدیم تہذیب پر جب انگریزی روزنامہ ڈان کراچی میں بحث چلی تھی، تو شاعر غلام مصطفٰے کے اختتامی مضمون ( جو کہ ڈان اخبار میں 23 جون 1959ء میں چھپاتھا ) پر میں  (سردار محمد خاں )نے جو نوٹ لکھا تھا اُس کا متن درج ذیل ہے :--

Script in use by the ancient Indus valley people:-

Prior to the Dorian invasion in the 12th BC there existed apart from & nearly concurrent with Helladic culture ( 2500 to 1100BC ) of the Greek mainland in the prehistoric Bronze age an even much older civilization (3000 to 1100 BC) of the islands of Aegean sea. This Aegean civilization was represented chiefly by Minoan culture of Crete island, the rulers of whose chief ancient city "Knossos" were called "Minos" . The early division of this Minoan  culture ranged from 5000 to 2100 BC, & the middle phase lasted from 2100 to  1600 BC during which period also flourished minor civilizations like Cycladic etc.)The third & the last phase (1400 to 1100 BC ) was virtually identical with Mycenaean civilization which had Crete or Candia as one of its principal seats.

It was during this period that the Cretans had evolved their own Kinoan hieroglyphy especially the linear script, & Dr. F. Hrozny points out an affinity of this very script, with that of the ancient Indus valley. None of these two scripts has as yet been fully deciphered, but professor Evans has pointed out as exact similarity of at least 70 engraved symbols on gems & seals discovered in Crete island of that period with those which seem to be embossed in archaic pictographic script & later on in phonetic syllabery ( from 2500 BC onwards ) on Egyptian scarabs discovered of the time of Dynasties XII & XIII of ancient Egyptian kings. This shows that the Minoan hieroglyphy had its common origin & use with that of Egyptian hieroglyphy had its common origin and use with that of Egyptian hieroglyphy in its conventional signs & symbols.

There is thus a possibility that the script adopted the people inhabiting the ancient Indus Valley was borrowed either from the Egyptians or from the Cretans.

Another highly probable possibility is that the ancient Chaldeans ( who were the rulers of "Babylons" prior to the occupation of Sumer & Akkad by two different groups of people in 400 BC) might have taken away with them the Egyptian script in its pictographic stage during the reigns of the first chain of Egyptian kings in 4300 BC, & from there the "Harrappans" (while still outside this subcontinent) had adopted the use of this script prior to its already existing lineal shape having been moulded by the rulers of Sumer to a cuneiform why of writing by the stylus. This may also be the reason why ancient Sindh alphabet shows a similarity with the Sumerian alphabet, but has different phonetic values.

پروفیسر احمد حسن دانی نے تبصرہ فرمایا ہے کہ احمد سلیم نے اسلام آباد کے انگریزی اخبار  The Muslim کے 30 مئی 1980ء کے پرچہ میں وادئ سندھ کے رسم الخط پڑھنے میں قریبی سالوں میں جو کوششیں ہوئی ہیں، اُن کا جائزہ جمع کر دیا ہے۔ اِس جائزہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ڈاکٹر اَیس  آر  راؤ ( جس نے 15 نومبر 1979ء کے  India Foreign Review  میں یہ ثابت کیا ہے کہ وادئ سندھ کی زبان  پُرانی ہِند آریائی ، رِگ ویدی  کے آغاز کی شکل ہے )  کے اِس رسم الخط کو پڑھنے کے دعویٰ کی تفصیل کو ڈاکٹر غلام علی الانا نے بھی مُسترد کر دیا ہے۔

یہاں پر پنجابی زبان کی مختلف بولیوں کے نمونے دینے یا اُن کے قواعدی فرق کو دِکھانا مطلوب نہیں ۔ سرجارج گریرسن کی کِسانی سروے میں تفصیل سے اِن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ صرف ایک دو نمونے سرایئکی ہِندکی اور پشاوری ہِندکو کے نقل کئے جاتے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس طرح عام پنجابی بولنے والا تھوڑی سی کوشش سے اِن نمونوں کو سمجھ سکتا ہے، اور یُوں اِن کو پنجابی کی قسم  ہی قرار دینا صحیح ہو گا۔ مندرجہ بالا تفصیل سے یہ دلیل از خود رفع ہو جاتی ہے کہ " آئے تو ہم (آریا) پشاور پہلے اور سندیسہ ملے لاہور والوں سے کِہ ہم اُنکی زبان کی بولی بولتے ہیں"۔

سرائیکی ہِندکی جس کا نمونہ ظفر لشاری کی ناول "پہاج " ( صفحہ 359) سے لیا گیا ہے۔ اس کو پاکستان پنجابی ادبی بورڈ لاہور نے دسمبر 1983ء میں چھاپا۔ مصنف کی یہ مادری زبان ہے، اور یہ وہی زبان ہے جس کو ڈاکٹر غلام علی الانانے اپنی کتاب " سنڌﻲ ېولئَ جي لساني جاگرافي" (طبع شدہ اِنسِٹیِٹُو ٹ آف سِندھالوجی ۔ جولائی 1979ء) میں نقشوں سے دیکھایا ہے کہ کس طرح اس زبان کے بولنے والوں کا سندھ پر تسلط رہنے کی وجہ سے سندھ کے ہر ضِلع میں کتنے فی صد لوگ اب تک یہ زبان بولتے ہیں۔ یہی وہ زبان ہے جو کلھوڑا اور ٹالپرُکے سردار بولتے تھے، اور شمالی خِطہِ کی زبان ہونے کی وجہ سے پاکستان بننے کے بعد اس کو سرائیکی (اسورکی ) کے نام سے مشہور کیا جا رہا ہے۔ مگر حقیقت میں سِندھ کے شمالی خِطہِ کو "سرو" کہتے ہیں اور وہاں کے رہنے والے "سِرائی" کہلاتے ہیں ، جِن کی سِندھی زبان کی بولی کو گریرسن نے " سِرائِکی "  یا  "سرٔیکی سِندھی" کا نام دیا ہے۔ گو اب اِسے سریلی کہتے ہیں۔

" رشیدے خاں کڈوکنا میڈے پِچھّوں لگا کھڑے۔ سانول واسطے اوہ تیڈا رشتہ منگدے۔ ڈس میں اوں کُوں کیا ولدی ڈیواں ۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ اوں دے بیا نیڑے تھی تے وڈی راز داری نال گالھ کیتی تے ما دی گالھ سُن تے ہِک لحظے وِچ، اوں دے من موہنے چہرے تے، کئی فجریں دِیاں رتانجنِیں پھر گئیاں۔ اوں نازک وجود ، نازاں بھرں نازو۔ حیا والیاں اکھِّیں نال ما  دو ڈِٹھّا تے نازک نازک ہوٹھاں وِچّوں تِلکدی ہوئی مُسک اگّوں بوچھن دا اوہلا کرتے سر نو ایُس چا۔"

پشاوری ہِندکو کا نمونہ "ہِندکو قوعد" (صفحہ30) از مختار علی نیرّ ( 1976ء) سے لیا گیا ہے۔ اور وہ یُوں ہے:-

"ہندکو زبان دی تاریخ اپڑی جگہ اہِک بڑا  وڈا مضمونے ۔ اگر زِنگی نے وفا کِیتی تا انشاءاﷲ تعالے  ٰ قدیم لسانی نقشے تے مزید تفصیل دے نال کتابی صُور تے چ ضرور پیش کرساں۔ کیونکہ ہون او وَخت آ گیا یے کہ ہر زبان نُو اُزا جائز مقام مِلے۔ اے مختصر ترین جئی ہِندکو  زبان دی تاریخ جیڑی مَنے چند صفیا چ پیش کِیتِیئے، اے صرف اہِک مختصر جِیا تعارفے جیڑا اِس موقعے تے منے ضروری سمجھئے۔ منو اُمیدے کہ ہِندکو زبان نال محبت رکھنے والے ہِندکون میری اِس مِحنت کولو ضرور فیدہ لیسن۔"


Various_aspectNext

الف بے کی پوری پٹی ۔  Shahmukhi Alphabet, Punjabi Lesson - 1
پنجابی کس طرح لکھی اور پڑھی جاۓ  Punjabi Shahmukhi Script, How to read and write
مُلتانی - زبان یا بولی   Multani or Saraiki: Dialect or Language
پنجابی زبان کی مُلتانی بولی   
مُلتانی کی مخصوص آوازیں    Sounds of Multani that make it different from other Dialects of Punjabi
پنجابی اصوتیات   Punjabi Phonetics
پنجابی قاعدہ   
پنجابی زبان اور رسم الخط Punjabi Script and Punjabi Language
پنجابی کے کچھ الفاظ کی املاء  Words used more often
پنجابی زبان کی بولیاں   Punjabi Language and Dialect



کھوج کے لئے الفاظ بغیر اعراب  ( یعنی زیر زبر وغیرہ ) کے لکھیں۔


Back to Previous Page

تیری  نظرِ  تغافل  نے  غَضب  کِیتا ، بڑا  سِتم  تیرے اِنتشار  کِیتا
کالے  وعدیاں  وچ  سفید  ہو گئے ، ایتھوں  تیک  تیرا  انتظار  کِیتا
اچھّا  بہت اچھّا ، ہاں  ہاں  کِیتا ، تُساں  جَدوں   کِیتا  اِنکار کِیتا
کرم عاشق دے صَبر نُوں ویکھیا ای ، نہ اظہار کِیتا نہ اصرار کِیتا